انڈیا چائینہ کا سرحدی تنازعہ اورعالمی جغرافیائی سیاست کی خطرناک صورتحال:۔

18 June 2020

پیر کی رات کا تصادم جس کے نتیجے میں انڈین فوج اورچائینہ کی پیپلز لبریشن آرمی کے درجنوں فوجی ہلاک ہوگئے نے دنیا کی دو سب سے ذیادہ آبادی والے باہمی عداوت کے حامل نیو کلیئر ہتھیاروں سے مسلح ممالک کے درمیان جنگ کے خطرات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔

اس تصادم کے بعد سے، بیجنگ اور نیودہلی دونوں نے متنازعہ سرحد پر ایک دوسرے کے بالمقابل تعینات اپنی اپنی مسلح افواج کو پیچھے ہٹانے اور اس علاقے پر حق ملکیت کے اپنے دعوؤں کو پُرامن سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن دونوں اس پر مصر ہیں کہ دوسرے فریق نے تصادم کا راستہ اختیار کیا لہٰذا اُسے پیچھے ہٹنا چاہیے۔۔۔پینتالیس سال میں یہ انڈیا اور چائینہ کی افواج کے درمیان پہلی ایسی جھڑپ ہے جس میں فریقین کا بہت زیادہ جانی نقصان ہواہے۔

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ژی کے درمیان بُدھ کے روز کے ٹیلیفونک رابطے کے بعد، دہلی نے ایک بیان جاری کیا جس میں چائینہ پر ”جارحیت اور ہلاکتوں“ کی ذمہ داری عائد کی گئی اور یہ کہا گیا کہ ”اب وقت آگیا ہے کہ چائینہ اپنے اقدمات کا اذسر نو جائیزہ لے ا ور اپنے غلط اقدمات کی اصلاح کرے“۔

بیجنگ نے اس کے جواب میں بیان دیاجس میں کہا گیا کہ وانگ نے انڈیا سے مطالبہ کیا تھا ”کہ انڈیا اُن کو سخت سزا دے“ جو اس کی فوج کے ”جارحانہ“ اور ”مہم جوآنہ“ روئیے کے ذمہ دار ہیں، ”محاذ پر موجود اپنے فوجیوں پر کنٹرول سخت کرے اور ہر قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کا فی الفور سدباب کرے“۔ اس بیان میں مزید کہاگیا تھا کہ انڈیا ”چائینہ کے اپنی علاقائی خود مختاری کے تحفظ کے مصمم ارادے کو بالکل کمزور نہ سمجھے“۔

انڈیا کے وزیر دفاع اور ملٹری ہائی کمان کے درمیان گزشتہ روز ملاقات کے بعد، انڈیا نے چائینہ کے ساتھ اپنی متنازعہ سر حد پر تعینات اپنے بری اور فضائی افواج کے ہزاروں اہلکاروں کو مکمل طور پر تیار اورچوکنا رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس دوران، انڈین بحریہ کو بھی چائینہ کے جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے ساتھ ممکنہ تصادم کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

بُدھ کے روز، انڈیا کے دائیں بازو کے انتہا پسند اور ہندوتوا کے علمبردار وزیراعظم نریندرا مودی نے ٹیلیوژن پر خطاب کیا، جس میں اُنہوں نے اس بات کا عہد کیا کہ ”ہمارے فوجی جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی، بلکہ اگر ہمیں اشتعال دلایا گیا تو ہم اسکا بھرپور جواب دینگے“۔

انڈیا اور چائینہ کے درمیان 3500 کلو میٹر طویل متنازعہ سرحد ہمالیہ کے دُشوار گزار پہاڑی سلسلوں سے گزرتی ہے۔ پیر کی رات کی جھڑپ ایک تنگ سی گھاٹی میں ہوئی جو سطح سمندر سے 4260 میٹر بلند ہے۔

عالمی سرمایہ داری کے انحطاط وزوال کے ان حالات میں اور اس کے نتیجے میں بڑی طاقتوں اور سامراجی قوتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے ماحول میں، انڈیا چائینہ سرحدی تنازعہ امریکہ اور چائینہ کے درمیان جاری تزویراتی رقابت کے ساتھ جُڑ گیا ہے، جس کی بدولت اسکی ہلاکت خیزی کئی گنا بڑھ گئی ہے، اور جس نے اس تنازعہ کو عالمی سطح پربہت زیادہ جیو پولیٹیکل اہمیت دے دی ہے۔

انڈیا کی ضمیر فروش اور لالچی سرمایہ دار اشرافیہ نے پچھلے پندرہ برسوں میں انڈیا کو امریکہ کی چائینہ کے خلاف عسکری وتزویراتی جارحیت کا حصہ بنا دیا ہے۔ مودی کے دور میں، نیو دہلی نے امریکی فضائی اور بحری جنگی جہازوں کیلئے اپنے ملٹری اڈے کھول دئیے ہیں اور واشنگٹن اور اسکے ایشیاء پیسیفک اتحادیوں جاپان اور آسٹریلیاء کے ساتھ تیزی سے بڑھتا ہوا دوطرفہ، سہ طرفہ اور چہار طرفہ تعلق استوار کیا ہے۔

بیجنگ نے اسکا جواب انڈیا کے پرانے اور سب سے بڑے حریف پاکستان کے ساتھ اپنے سیکیوریٹی تعاون میں اضافے سے دیا ہے، جس میں مغربی چائینہ سے پاکستان کی بحیرۂ عرب کی بندرگاہ گوادر تک ریل اورروڈ کی تعمیر اور پائپ لائن کا بچھایا جاناشامل ہے، جس کا مقصدساؤ تھ چائینہ سی اور بحرے ہند کے راستوں پر قبضے سے چائینہ کی معاشی جکڑبندی کے امریکی منصوبوں کاسدباب ہے۔ چائینہ پاکستان اکنامک کاریڈور چائینہ کے اقصائے چن علاقے سے گزرتا ہے، جس کے قریب ہی پیر کے روز جھڑپ ہوئی اور یہ وہ علاقہ ہے جس پر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے پچھلے اگست بڑی شدومد اور اشتعال انگیزی سے اپنے تاریخی دعوے کا اعادہ کیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس تصادم کے متعلق اب تک ایک بے ضرر قسم کا بیان آیا ہے جس میں مسئلے کے پر امن حل کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن ابھی پچھلے ماہ، واشنگٹن نے چائینہ کی انڈیا کے خلاف ”جارحیت“ کی کھلم کھلا مذمت کرتے ہوئے انڈیا کو تھپکی دی تھی۔

امریکی سامراج کی چائینہ کے خلاف ایک ہمہ جہت معاشی، سفارتی اور عسکری وتزویراتی جارحیت میں جو وسیع تر پھیلاؤ آیاہے یہ اسکا حصہ ہے، اور جسکا منطقی نتیجہ جنگ ہے۔ اس میں اور بھی کئی چیزیں شامل ہیں جیسا کہ:

امریکی حکومت کی اپنی نا اہلی اور غفلت کی بدولت کووڈ 19 کی وجہ سے انسانی جانوں کا جو نقصان ہوا ہے اس پر عوام میں موجود غصے کا رخ موڑنے کیلئے بیجنگ پر الزام لگانا، اور بیجنگ کے خلاف کسی ممکنہ جارحیت کا جواز بھی فراہم کرنا۔

پچھلے ہفتے تین طیارہ بردار بحری جنگی جہازوں کومغربی پیسیفک کی جانب روانہ کرنا جہاں وہ چین کے ساحل سے کچھ پرے تعینات ہونگے۔

چائینہ کی معیشت سے امریکی معیشت کو ”علیحدہ“ کرنے کی مہم شرو ع کرنا، امریکی کمپنیوں کو اس پر مجبور کرتے ہوئے کہ وہ چائینہ میں کام کرنا بند کریں۔ انڈیا کو مزید اپنے تزویراتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی خیال سے، ٹرمپ اور امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بڑے واضح انداز سے انڈیا کو چائینہ کے متبادل ایک صنعتی اور پیداواری مرکز کی حیثیت سے پروموٹ کیا ہے۔

ٌ مختلف ممالک پر دباؤ ڈالنے کی اپنی اس مہم میں تیزی لانا کہ وہ چائینہ کی نمائندہ ہائی ٹیک کمپنی ہوواوئے کو اپنے 5G نیٹ ورکس سے نکال دیں، تاکہ چائینہ کو مقابلے کی ایک ہائی ٹیک صنعت کے طور پر اُبھرنے سے روکا جاسکے۔

ٌ تائیوان کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی اور ڈھکے چھپے انداز سے ”ون چائینہ پالیسی“ کی حمایت ترک کرنے کی دھمکی دینا۔

ٌ روس اور چائینہ دونوں کی روک تھام کیلئے، وسیع پیمانے پر کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری۔

ان سب اقدامات کے ساتھ ساتھ، اس عالمگیر وباء کے دنوں میں بھی، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران اور وینزویلاکے خلاف معاشی پابندیوں اورفوجی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، اور اسرائیل کو ہری بتی دکھائی ہے کہ وہ سارے مغربی کنارے پر مکمل قبضہ کرلے۔

انڈیا چائینہ کا سرحدی تنازعہ اُن عالمی فلیش پوائنٹس میں ایک ہے جہاں امریکی جارحیت ریاستوں کے درمیان تنازعات کاباعث بنی ہے یا اس نے ان جھگڑوں کو زیادہ سنگین بنا کر اُنہیں ایک عالمگیر جنگ کے ممکنہ عمل انگیز میں بدل دیا ہے۔

امریکہ کی کسی بھی قسم کے بامعنی مذاکرات میں شرکت سے انکار اور سخت تکلیف دہ پابندیوں میں کسی قسم کی نرمی نہ کرنے سے سیخ پا ہو کر، شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے سا تھ اپنے دفتر رابطہ کو ہی دھماکے سے اُڑادیا۔

اور جہاں تک امریکہ کے سامراجی حریفوں کا تعلق ہے اُنہوں نے بھی 1930 کی عالمی کساد بازاری کے بعد سے سب سے بڑے معاشی بحران اور عالمی وباء کا اپنی جنگی تیاریوں میں زیادہ تیزی لاکر ویسا ہی جواب دیا ہے۔ جرمنی اور فرانس کے معاملے میں، اسکے معنی یہ ہوئے کہ ایک یورپی فوجی قوت کے قیام کی کوششوں میں تیزی لائی جائے جو تجارتی منڈیوں، قدرتی وسائل اور اہم علاقوں پر ان کی اجارہ داری قائم کر سکے بغیر امریکی معاونت کے اور اگر ضرورت پڑے تو اسے امریکہ کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکے۔

پچھلے ہفتے ڈائی ویلٹ میں لکھتے ہوئے، فارن افیئرز کیلئے یورپین یونین ہائی ریپریزنٹو جوزف بورل اور انٹرنل مارکیٹ کیلئے ای یو کمشنر تھیری بریٹن نے اعلان کیا ”چائینہ اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی“ ایک ”مظبوط یورپی طاقت“ کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے، ”جو اپنا اثرو رسوخ استعمال کر سکے، اپنا نقطہ ء نظر منواسکے، اور اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے“۔

کووڈ 19 نے پچھلی چاردہائیوں اور بلخصوص 2008 سے عالمی سرمایہ داری کو لاحق امراض کی سنگینی میں اضافہ کر دیا ہے۔۔۔ جیسا کہ حرص وہوس کی وجہ سے سماجی نا انصافی کا پھیلنا، عسکریت پسندی اور جنگ، جمہوری طرز حکمرانی کی گلی سڑی صورتیں، اور سرمایہ دار اشرافیہ کی جانب سے رجعت پسندی کی سرپرستی اور انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی ترویج۔

یہ وباء عالمی طبقاتی جدوجہد کی رفتار کو بھی تیز کر رہی ہے۔ اس عالمی وباء کے ابتدائی مرحلوں میں، اور ایسی صورت میں جب اس بیماری کا پھیلاؤ روکنے کیلئے شروع میں تو کچھ نہ کیا گیااور پھر حکومتوں نے بغیر کسی تیاری کے ہر جگہ لاک ڈاؤن کر دئیے، تو بظاہر اس کے خلاف کوئی سماجی احتجاج نہ ہوا۔ لیکن پولیس کے ہاتھوں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد سارے امریکہ میں وسیع پیمانے پر جو کثیر قومی اور کثیر نسلی احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے اور جو ساری دنیا میں پھیل گئے تو اس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ 2018 اور 2019 میں حکومت مخالف ہڑتالوں اور عوامی مظاہروں کی لہر نے جو رفتار پکڑی تھی تو وہ عالمی مزدور طبقے کی ابتدائی انقلابی اور بڑی جدوجہد کا صرف ایک شروعاتی مرحلہ تھا۔

شمالی امریکہ اور یورپ کے سامراجی ممالک میں سرمایہ دار اشرافیہ کا اس وباء سے نمٹنے کا انداز اور طریقہء کار۔۔۔ اسکی مجرمانہ غفلت، قومی اثاثوں کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار، اور مزدوروں کو کام پر مجبور کرنے کی اسکی مہم جبکہ کووڈ 19 پھیلاؤ اسی طرح جاری ہے۔۔۔ان سب عوامل نے ایک سماجی آشوب کو جنم دیا ہے۔ اس نے قریب المرگ سرمایہ داری نظام کی بربریت، سیاسی و نظریاتی دیوالیہ پن اور اخلاقی عدم جواز کو عیاں کر دیا ہے۔

ان حالات میں اس بات کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ ناقابل حل معاشی اور سیاسی مسائل سے دوچار اوربڑھتی ہوئی سماجی مخالفت کا شکار اس سرمایہ دار حکمران اشرافیہ کو عسکری مہم جوئی میں ہی نجات کا راستہ دکھائی دے۔۔۔ یعنی ”جنگ کی ضرورت“ کو جواز بناکر، ایک اندھی اور جنونی حب الوطنی اور ریاستی جبر کے ذریعے طبقاتی جدوجہد کو دبایا جائے اور ”قومی یکجہتی“ کو بڑھایا جائے۔

انڈیا میں یہی صورت حال ہے۔ انڈین اشرافیہ کے وباء سے نمٹنے کے انداز سے مصیبت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔۔۔بغیر کسی تیاری کے لاک ڈاؤن، حفظان صحت کے بنیادی اقدامات جیسا کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا نہ کرنا، اور اب معیشت کو کھولنا۔۔۔ان سب کے نتیجے میں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں اور بیماری میں اضافے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ گزشتہ روز جب انڈین میڈیا اپنے ہلاک فوجیوں کی تحسین کر رہا تھا، وباء سے ہلاکتوں کی تعداد میں 2003 افراد کا اضافہ ہو گیا جو بیس فیصد سے زائد ہے۔

ایک بغیر ساکھ اور شریک جرم حزب اختلاف کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے، مودی اور اسکی بے جی پی نے باربار ایک جنونی فرقہ واریت، لڑنے مرنے پر تیار قوم پرستی، اور پاکستان پر عاقبت نااندیشانہ ”سرجیکل سٹرائیک“ کی ڈرامہ بازی کو استعمال کیا ہے، تاکہ معاشرے میں اپنی بڑھتی ہوئی مخالفت کا رُخ موڑ اجائے، رجعت پرستی کو بڑھایا جائے، اور مزدور طبقے کو تقسیم کیا جائے۔

لیکن سب سے زیادہ امریکہ میں بحران ذدہ حکومت اور حکمران طبقات جنگ کو بالکل واضح طور پر ”للچائی“ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔آج امریکی سامراج کی قیادت فسطائی ذہن کے ایک آمر کے پاس ہے، اور اسکی سیاسی اشرافیہ خود اپنے آپ سے بر سر پیکار ہے، اسکی بڑی فوج ہی اسکے رقیبوں کے بالمقابل اسکی بچی کھچی طاقت رہ گئی ہے، اور سب سے بڑھ کر اسے مزدور طبقے کی جانب سے ایک متحرب مخالفت کا سامنا ہے۔

عالمی سرمایہ دار بحران اور طبقاتی جدوجہد دونوں میں اضافہ اس بات کو اور بھی ضروری بنا دیتے ہیں کہ جنگ کی مخالفت کی جائے۔ بین الاقوامی مزدور طبقہ ہی وہ واحد سماجی قوت ہے جو جنگ کو روک سکتا ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکی جدوجہد کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو شعوری حکمت عملی کے ساتھ اختیار کیا جائے، اورمزدوروں کے اقتدار اور سوشلزم کے قیام کیلئے مزدور طبقے کی جدوجہد کو ایک خودمختار سیاسی قوت کے طور پر متحرک کیا جائے۔ ہم ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے تمام قارئین پر زور دیتے ہیں کہ وہ مزدور طبقے کو اس آگہی اور شعور سے مسلح کرنے کی جدوجہد میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔

کیتھ جان