پولیس کے ہاتھوں قتل کے خلاف مظاہرے اورمسقبل کا راستہ؛۔

15 June 2020

امریکہ کے شہر مناپلس میں میموریل ڈے کے موقع پر جارج فلائیڈ کے قتل کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں، اس دوران امریکہ اور دنیا کے ہر براعظم میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

یہ تحریک ابھی تک اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ سیاسی اور عملی معنوں میں یہ تحریک تاحال کوئی واضح طبقاتی اور سوشلسٹ رنگ اختیار نہیں کر سکی۔ ابھی تک جو نعرئے اس نے اختیار کئے ہیں وہ عمومی جمہوری نوعیت کے ہیں جنکا بنیادی نکتہ پولیس کی بربریت کے خلاف احتجاج ہے۔

جو سیاسی قوتیں اس وقت غالب ہیں ان کا تعلق متوسط مالدار طبقے اور حکمران اشرافیہ سے ہے، جن کے سیاسی اسٹبلشمنٹ سے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ وہ اس احتجاج کو نسلی رنگ دینا چاہتے ہیں تاکہ ان انتہائی اہم طبقاتی مسائل کو ابھرنے سے روکا جائے جو اس ہمہ گیر سماجی غصے اور اختلاف کی اصل بنیاد ہیں کیونکہ اگر یہ حقیقی عوامل عوام کے سامنے آگئے تو سرمایہ دارانہ نظام کیلئے ایک سنگین خطرہ پیدا ہو جائیگا۔

اس سب کے باوجود اس تحریک کی معروضی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ ردعمل کی سیاسست کے ایک طویل دور کا خاتمہ ہے۔ گذشتہ چار دہائیوں سے، حکمران طبقہ ایک مسلسل طبقاتی جنگ میں مصروف ہے۔ امریکہ اور دنیا بھر میں مزدور طبقے نے اس جارحیت کے خلاف جو بھی جدوجہد کی اس کو پرانے سٹالنسٹ، سوشل ڈیموکریٹ، مسلمہ طور پر سرمایہ داری کی حامی لیبر اور ٹرید یونین بیوروکریسی اور انکے اصلاح پسندی کے قومی پروگرام بے نتیجہ کر دیتے تھے۔

حکمران طبقات کی رجعتی جارحیت، جس کا آغاز 1980 سے ہوتا ہے، میں اسوقت بہت شدت آگئی جب 1989 سے 1991 کے درمیان سویت یونین اورمشرقی یورپ میں سٹالنسٹ حکومتوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ان تبدیلیوں کو حکمران اشرافیہ نے سرمایہ داری کی حتمی اور ناقابل تنسیخ کامیابی قرار دیا۔ اس بات کا اعلان کیا گیا کہ سرمایہ داری کے متبادل سوشلسٹ عفریت کو بالآخر مغلوب کر لیا گیا۔

91۔1990 کی گلف کی جنگ سے ایک بے لگام سامراجی نئی نو آبادیات اور عسکریت پسندی کے تین عشروں کی شروعات ہوتی ہیں۔ 2001 میں دہشت گردی کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعدسے، کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب امریکہ کسی نہ کسی لڑائی میں مصروف نہ رہا ہو۔

ملک کے اندر، پچھلے تین عشروں کی نمایاں خصوصیت سماجی عدم مساوات کا حیرت انگیز پھیلاؤ ہے۔ سماجی امدادی پروگرام ختم کر دئیے گئے، اُجرتوں میں کٹوتیاں کی گئیں بلکہ پوری کی پوری صنعتوں کو ختم کر دیا گیا تاکہ سٹاک مارکیٹ کی بے رحمانہ بڑھوتری کو ایندھن فراہم کیا جاسکے۔ تین امیر ترین امریکیوں کے پاس ملک کی نچلی نصف آبادی سے زیادہ دولت ہے۔ اور یہ بھی ایک عالمی عمل کا حصہ ہے۔ دنیا کے ارب پتیوں کے پاس دنیا کے 4.6 ارب غریب لوگوں سے زیادہ دولت ہے۔

اس سماجی عدم مساوات کا ضمنی نتیجہ جمہوری طرز حکمرانی کی ناکامی ہے۔ دولت کا بے پایاں ارتکاز ایسے سماجی اختلافات کو جنم دیتا ہے جن کے درمیان معمول کے جمہوری طریقوں سے مصالحت نہیں ہو سکتی۔ ایک سرمایہ دارریاست مزدور طبقے کے خلاف جس جارحیت کا ارتکاب کرتی ہے۔۔۔ بالخصوص غریبوں اور کمزوروں کے خلاف۔۔۔اسکی صورت مزید وحشیانہ ہو جاتی ہے۔پولیس کی انسان کش کاروائیاں اسکا سب سے برملا اظہار ہے۔ جارج فلائیڈ کا یوں سرعام گلا گھونٹا جانا، اپنی تام تر ہولناکی کے باوجود، ان ہزاروں قتلوں میں سے ایک قتل ہے جو ہر سال امریکی شاہراؤں پر پولیس کے ہاتھوں ہوتے ہیں۔

سیاسی اور سماجی ردعمل کا طویل دورانیہ معاشی اور سماجی تضادات کو مصنوعی طریقوں سے اور زبر دستی دبانے کو ظاہر کرتاہے۔ جتنی قوت سے ان تضادات کو دبایا جاتا ہے یہ اتنی ہی شدت سے پھٹتے ہیں۔ امریکہ اور ساری دنیا میں ہونیوالے مظاہرے تو ابتدائی علامات ہیں اس غصے کی جو عوام الناس کے دلوں میں کافی عرصے سے جمع ہو رہا ہے۔

ان مظاہروں کی نوعیت اور انکا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ نہ صرف عوامی غیض وغضب کے اُبلنے کو ظاہر کرتاہے۔ بلکہ جدید معاشرے کی اقتصادی اور تکنیکی بنیادوں میں جو معروضی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں یہ انکے اثرات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس سیاسی ردعمل کے پس منظر میں، معاشی گلوبلائیز یشن اور انٹرنیٹ اور اسی طرح کے دیگر ذرائع ابلاغ کی ترقی بہت دوررس انقلابی معنویت رکھتی ہیں۔

باہمی طور پر مربوط ان عوامل نے قومی ریاستوں کے فرسودہ نظام اور ایک گلوبل معیشت کے درمیان موجود بنیادی تضادات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مزید برآں، گلوبلائیز یشن کے عمل نے سرمایہ داری کے خلاف مزدور طبقے کی ایک بین الاقوامی اور باہم مرتب و منظم تحریک کی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ مزدور طبقے کے عالمی اتحاد کا امکان ایک تخیلاتی تصور نہیں ہے۔ عالمی سرمایہ داری کے موجودہ ذرائع پیداوار سے ہی اسکی ٹھوس شکل برآمد ہوگی۔

کافی عرصہ قبل 1988 میں، فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی نے اسکی پیش بینی کر دی تھی۔ ”عالمی سرمایہ داری کا بحران اور فورتھ انٹرنیشنل کا لائحہ عمل“ میں اس نے لکھا تھا:

مارکسزم کا تویہ ایک بڑا بنیادی دعویٰ رہاہے کہ طبقاتی جدوجہد تو صرف اپنی شکل کے اعتبار سے قومی ہے، لیکن جوہری طور پر تو یہ ایک بین الاقوامی جدوجہد ہے۔ تاہم اب سرمایہ داری کی ترقی کے نئے خدوخال کی بدولت طبقاتی جدوجہدکو اپنی صورت کے اعتبار سے بھی بین الاقوامی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔ حتاکہ ابتدائی نوعیت کی طبقاتی جدوجہد کو بھی عالمی سطح پر اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

پولیس جارحیت کے خلاف یہ تحریک کثیر قومی، کثیر نسلی اور کثیر لسانی ہے۔ یہ عالمی سطح پر اس لیئے برپاہے کیونکہ اس کے بنیادی محرکات عالمی نوعیت کے ہیں۔

حکمران طبقات اسکے نتائج سے خائف ہیں۔ سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، جو ایک معروف سامراجی تھینک ٹینک ہے، نے اس سال کے شروع میں متنبہ کیا تھا: ”ہم عالمی احتجاجی مظاہروں کے عہد میں جی رہے ہیں جو تاریخ میں اپنی تعداد، وسعت اور حجم میں فقیدالمثال ہیں۔۔۔موجودہ لیڈروں، اشرافیہ اور اداروں پر عوام اپنا اعتماد کھو رہے ہیں اور مایوسی اور نفرت میں اب سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

یہ ہے پولیس جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا کردار اور ان کی نوعیت۔ ہمیشہ کی طرح، حکمران اشرافیہ کے نمائند ے اس تحریک کو محدود کرنے اور اسے محفوظ راستوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نسلی فرقہ پرستوں کا مقصدپولیس سے توجہ ہٹانا ہے جو سرمایہ دار ریاست کی آلہء کار اورایک مخصوص طبقے کی حکمرانی کی اولین محافظ ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کو نسلی رنگ دینے کی تمام تر کوشش انکے کثیر نسلی، کثیر لسانی اور کثیر قومی کردار کی بدولت رائگاں ہو جاتی ہے۔میری لینڈ یونیورسٹی کے سوشیالوجسٹ کی ایک سٹڈی سے یہ پتہ چلاکے نیویارک کے مظاہروں کا 61 فیصد، واشنگٹن میں ہونیوالے مظاہروں کا 65 فیصد، اور لاس اینجلس کے مظاہروں کا 53 فیصد حصہ سفید فام افراد تھے۔اس جائیزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہر رنگ ونسل کے امریکیوں کے ہاں پولیس جارحیت کے خلاف ہونیوالے مظاہروں کے حق میں بہت زیادہ حمایت پائی جاتی ہے۔

پولیس جارحیت کی مخالفت کو وسیع تر طبقاتی سوالوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف مظاہرے کووڈ 19 کی عالمی وباء کے عین درمیان ہورہے ہیں، اس وباء نے اس خلیج کو آشکارہ کردیا ہے جومزدورطبقے کو کارپور یٹ سیکٹر کی مالدار اشرافیہ سے علیحدہ کرتی ہے۔ جارج فلائیڈ کے قتل سے پیدا ہونیوالے غصے میں اس حقیقت کے اظہار سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کہ پچھلے تین ماہ کے دوران کورونا وائیرس کے پھیلاؤ سے 115,000 سے زائد امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام اب اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ موسم گرما کے اختتام تک ہلاکتوں کی تعداد 200,000 تک ہو جائیگی۔اس بات کا شدید خطرہ موجود ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس اندازے سے کہیں زیادہ ہو۔

اموات کی اتنی بڑی تعدادٹرمپ انتظامیہ اور اسکے پیشرؤں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ وہ اس وباء سے نبٹنے کی کوئی تیاری نہ کرسکے جس کے متعلق سائنسدان پچھلے بیس برس سے پیش گوئی کر ہے تھے۔درکار وسائل کی فراہمی سے انکار نفع وسود پر مبنی مکروہ ترین ترجیحات کا نتیجہ ہے۔مزید خرابی یوں ہوئی کہ جب وبا پھیل چکی تو صحت عامہ کے اس بحران کے دوران بھی حکمران اشرافیہ کی ترجیح کارپوریشنز اور وال سٹرییٹ کے مالیاتی مفادات کی نگہداشت کی خاطر کئی ٹریلئن ڈالر کے امدادی پیکج کا حصول تھا۔ مارچ کے آخر میں جب کیرس(CARES) کا ترمیمی بل منظور ہوگیا، تو حکومت نے وائیرس پرقابو پانے کی اپنی ناکافی کوششوں کو بھی ترک کردیا۔

اسکے بجائے،سیاسی اسٹبلشمنٹ۔۔۔بشمول ڈیموکریٹ اور ریپبلکن۔۔۔دونوں نے معیشت کی تیز رفتار ”بحالی“ کا مطالبہ شروع کردیا۔

ایک ہمہ جہت اقتصادی اور سماجی تباہی امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔بیس ملین سے ذائد افراد بے روزگار ہیں، لیکن مزدور طبقے اور متوسط طبقے کے ایک بڑے حصے پر اسکے تباہ کن اثرات کے ازالے کیلئے کسی امدادی پروگرام کی کہیں کوئی تیاری نہیں ہے۔ درحقیقت، غربت وافلاس کے خوف کو کام پر واپسی کی تحریک کو تیز تر کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ اور اسکے اتحادی کانگریس اراکین یہ کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ وہ بے روزگاری الاؤنس میں 600 ڈالر فی ہفتہ اضافے کے خلاف ہیں کیونکہ ان امدادی رقوم سے مزدوروں کی غیر محفوظ کارخانوں اور کام وکاروبار کے ایسے دیگرمقامات پرواپسی کی ”حوصلہ شکنی“ ہوتی ہے۔

مزدور طبقے میں غصہ بڑھتا جارہا ہے۔یہ اب زیادہ واضح ہو رہا ہے کہ اس وباء کے خلاف جنگ اور اسکے نتائج ٹرمپ انتظامیہ،کارپوریٹ مفادات کے زیر قبضہ ٹوپارٹی سسٹم،اور سرمایہ داری کے خلاف سیاسی تصادم کی جانب لے جائینگے۔

جب ٹرمپ نے یہ کہا کہ اس تحریک کو دبانے کی ضرورت ہے قبل اس کے کہ یہ قابو سے باہر ہوجائے، اور فوجی قوانین کے اطلاق سے آئین کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی، تواسکے ذہن میں مزدور طبقے کی جانب سے ایک بڑے ردعمل کا حقیقی خطرہ موجود تھا،یعنی ایسی ہڑتالیں جو معیشت کو مفلوج کر دیں،اور اسکی حکومت کیلئے کام جاری رکھنا ناممکن ہوجائے، اور سیاسی اقتدار کا مزدور طبقے کو منتقلی کا سوال اُٹھ کھڑا ہو۔

سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی، فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی میں اپنے ہم خیال افراد سے ملکر، مزدور طبقے کے سیاسی شعور کو اُبھارنے، اور ایسی پاٹیوں اور لیڈروں سے علیحدہ اسکے جداگانہ تشخص کو ابھارنے جو سرمایہ داری کے مفادات کی نمائندہ گی کرتے ہیں، اور اسکی سر گرمیوں کو حالات وواقعات کی معروضی منطق سے ہم آہنگ کرنے پر اپنی کوششوں کو مرتکز کرتی ہے،جارج فلائیڈ کے ظالمانہ قتل اور پولیس کی بربریت کے اس قسم کے دیگر واقعات کے خلاف احتجاج کو ایک بڑی عوامی تحریک میں بدلنے کی سعی کرتے ہوئے، جس کی قیادت مزدور طبقے کے پاس ہو اور جس کا مقصد سوشلزم کا قیام ہو۔

سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی کا بیان (امریکہ)