نئی دہلی کا کشمیر پر حملہ اور فرقہ وارانہ ردِعمل، سامراجیت اور جنگ کے خلاف لڑائی؛۔

10 August 2019

پچھلے سوموار، انڈیا کی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے با لکل ناجائز طور پر ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی اور نیم خود مختارانہ حیثیت کا خاتمہ کر دیا۔۔۔۔جموں وکشمیر انڈیا کے زیرِقبضہ کشمیر کا وہ حصہ ہے جو دو ایٹمی ریاستوں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ستر سال سے فوجی و سٹیٹیجک تنازعے کا مرکز ہے۔

نئی دہلی نے جمو ں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اور انڈ یا کی اب تک کی واحد مسلم اکثر ریتی ریاست کی حیثیت کو کم کرکے اسے بہت کم اختیارات والے دو یونین علاقوں میں تقسیم کردیا ہے۔ جموں و کشمیر اب مرکز کے ز یر انتظام ہونگے، جبکہ اسکی ”منتخب“ اسمبلی اور حکومت محض خانہ پری ہوگی۔

کشمیر کے متنازعہ علاقے کا نقشہ]سورس میڈیا کامنز

یہ تبدیلیاں ایک آئینی کودیتا کے ذریعے کی گئی ہیں جسکا منصوبہ وزیراعظم نریندر مودی، وذیر داخلہ امیت شاہ، انڈیا کے صدر رام ناتھ کووند اور اعلیٰ فوجی قیادت اور خفیہ اداروں نے بنایا تھا۔

جموں و کشمیر کے عوام کو اسکا پہلے سے کوئی علم تھا اور نہ سارے ملک میں کسی اور کو اس بات کا علم تھا اور ان تبدیلیوں پر پہلے کسی بحث مباحثے کا نہ کوئی موقع فراہم کیاگیا۔ وہ تو پیر کے روز جب سو کر اُٹھے تو انہیں پتہ چلا کہ ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو آئین سے ختم کر دیا گیا ہے اور انڈیا کے زیرقبضہ کشمیرایک مکمل محاصرے میں ہے۔

ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور آ ج بھی جموں کشمیر میں انٹر نیٹ، کیبل ٹیلی ویژن، سیل فون اور لینڈلائن سروس سب بند ہیں۔ ہزاروں فوجی اور نیم فوجی دستے سخت کرفیو نافذ کئے ہوئے ہیں اور چا ر سے ذیادہ آدمیوں کے اجتماع پر بھی پابندی ہے۔ اور یوں انڈین یونین میں جمو ں کشمیر کے ”مکمل ادغام“ کا عمل ریاست کی فوجی قوت کے ماتحت شروع ہے، اگرچہ اس خطے کو ملک کے دیگر حصوں سے مکمل طور پر کاٹ دیا گیا ہے، جیسا کہ چنائے کے اخبار ’ہندو‘ نے لکھا ہے۔

انڈیا کی سیکورٹی فورسز سری نگر کے موسم سرما کے درالخلافہ جموں وکشمیر میں

بی جے پی کی آئینی کودیتا کے رُجعتی مقاصد درجہ ذیل ہیں؛

یہ آخری مقصد بالخصوص اہم ہے۔ اگرچہ بی جے پی نے ابھی ابھی انتخابی فتح حاصل کی ہے، لیکن اسے اچھی طرح احساس ہے کہ وہ ایک سماجی بارود خانے پر بیٹھی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ مزدور طبقے کی جانب سے جب بھی مزاحمت ہوتی ہے، تو بڑے کاروباری طبقات کی جانب سے بی جے پی پر دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے کہ وہ سماجی طور پر تباہ کن لیکن سرمایہ دار مووافق اصلاحات پر تیزی سے عمل کرے۔

انڈیا کی حکمران اشرافیہ، جس میں بڑا حصہ بظاہر حزب اختلاف کا بھی شامل ہے، بی جے پی کی آ ئینی کودیتا کے پیچھے کھڑی ہے، اگرچہ وہ اسے ایک ”خطرناک جوا“ بھی تسلیم کرتی ہے۔ یہ ایک عالمی رُجحان ہے۔ ہر جگہ، بُحران زدہ اور خوف زدہ اشرافیہ سیاسی اور جغرافیائی سٹیٹیجک مسائل حل کرنے کیلئے عسکری مہم جوئی اورغیر آئینی اقدامات کر رہی ہے۔

عمران خان جو پاکستان کے دائیں بازو کے اسلامک پوپولسٹ وزیراعظم ہیں نے منگل کے روز ”آخری قطرۂ خون تک“ لڑنے کے ایک مہیب منظرنامے کا نقشہ کھینچا جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا ذکر بھی شامل تھا۔ ایسی لڑائی ناگزیر طور پر ایک عالمی جنگ میں بدل ہو جائیگی۔

انڈیا اور پاکستا ن کے مزدور طبقات کو اپنی جداگانہ حیثیت میں ایک بین الاقوامی سوشلسٹ پروگرام کی بنیاد پر دونوں اطراف کی بورژوا اشرافیہ اور انکی کشمیر میں سازشوں اور بمشول جنوبی ایشیاء اور دنیا بھر میں شدید مخالفت کرتے ہوئے اس بحران میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

تقسیم ہند اور بورژوا حکمرانی کی ناکامی؛۔

جنوبی ایشیاء میں جنگ کے خطرے اور فرقہ وارانہ ردِعمل کو دو باہم مربوط عوامل کے نتیجے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

پہلا عمل توبورژوا رہنمائی میں انڈیا کی قومی تحریک کی سامراج سے حقیقی آزادی حاصل کرنے میں واضح ناکامی ہے یا کوئی اور جمہوری کارنامہ سرانجام دینے میں جیساکہ جاگیرداری اور ذات پات کے نظام کا خاتمہ۔ یہ ناکامی 1947 میں ”آزادی“ کے موقع پر برصغیر کی مسلم پاکستان اور ہندوانڈیا میں خونی فرقہ وارانہ تقسیم کی صورت مجسم ہوجاتی ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے مابین رقابت ایک مستقل سامراجی تسلط کا باعث ہے، جس نے معاشی ترقی کو روکا ہوا ہے، اور جنگ اور جنگی تیاریوں میں بیشمار قیمتی جانوں اور وسائل کے زیاں کا سبب ہے۔ آج اس نے جنوبی ایشیاء بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کوایٹمی تباہی کے خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔

ان عوامل میں دوسرا عمل عالمی سرمایہ داری نظام کا داخلی بحران ہے۔ یہ قومی حکومتوں کو مجبور کر رہاہے کہ وہ مزدور طبقے کے استحصا ل میں مزید شدت لائیں اور جنگ و جار حیت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو منوائیں اس مہم کی قیادت بھی امریکہ اور دیگر سامراجی طاقتیں کر رہی ہیں۔

سامراج مخالف ایک بڑی تحریک جس نے 1919 سے 1947-48 تک کی تین دہائیوں میں جنوبی ایشیاء کو اپنی لپیٹ میں لیا ہواتھا اور جس کے اندر حقیقی آذادی کے بڑے امکانات تھے۔ لیکن بورژوا قومی قیادت نے اسکا اسقاط کر دیا اور یہ ناکام ہو گئی۔

مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کی انڈین نیشنل کانگریس، جوقوم پرست بورژوازی کی سب سے بڑی جماعت تھی، اسکا دعویٰ تو ہندو مسلم اتحاد کا تھا۔ لیکن املاک کی فکر میں مبتلا، ا پنی ہیت میں ہی وہ جنوبی ایشیاء کے مزدوروں اور محنت کشوں کو انکے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر متحد کرنے کیلئے نااہل بلکہ اسکے مخالف تھی۔

1930 کی دہائی میں مزدورطبقے کی بڑھتی ہوئی قوت اور جداگانہ کردار سے خوف ذدہ، اور بلخصوص 1942 سے 1947 کے درمیان، جب برٹش انڈیا انقلابی بیداری کی ایک نوخیز لہر کی زد میں تھا، کانگریسی رہنما لندن سے معاملات طے کرنے کیلئے پہلے سے بھی زیادہ بے چین ہو گئے تاکہ وہ جلد از جلد برطانوی نوآبادیاتی حکومتی ڈھانچے پر قبضہ کرکے اپنے بورژوا اقتدار کو استحکام دے سکیں۔

رُخصت ہوتے نوآبادیاتی آقاؤں اور جاگیردا روں کے زیرقیادت فرقہ پرست مسلم لیگ کو اپنی مرضی کرنے کی آزادی دیتے ہوئے، کانگریس نے نہ صرف تقسیم کو قبول کیا، بلکہ اس نے 1947 کے موسم بہار کے آخر اور گرمیوں میں ہندو مہا سبھا کے ساتھ ملکر پنجاب اوربنگال کی فرقہ وارونہ بنیادوں پر تقسیم کا مطالبہ بھی کیا۔

مستقبل کی پیش بینی کرتے ایک تجزیئے میں، بالشویک لیننسٹ پارٹی آف انڈیا (بی ایل پی آئی) میں موجود ٹراٹسکائٹ نے ان بڑے واقعات کے درمیان اس جڑواں جھوٹ کا بھانڈہ پھوڑ دیاجسکی بنیاد پر کانگریس کی قیادت تقسیم کے اپنے مطالبے کا جو جواز فراہم کرتی تھی کہ اس سے ”فرقہ واریت کا مسئلہ“ حل ہو گا اور ”آزادی کی راہ ہموار“ ہوگی۔

اسکے برعکس، بی ایل پی آئی نے متنبہ کیا تھا کہ اس سے ”سامراجی غلامی کی زنجیریں ہی مضبوط ہونگی“، ریاستوں کے درمیان قومی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی، اور ہر ریاست کے اندر بھی ”فرقہ واریت میں اضافہ“ ہوگا۔ جنوبی ایشیاء کے کروڑوں عوام کو متحد کرنے کا ترقی پسندانہ کا م بورژوا اقتدار اور بورژوا فرقہ وارانہ احیاء کی تمام صورتوں کے خلاف جدوجہد کرکے ہی سرانجام دیا جاسکتا ہے۔ ”جن لوگوں کو بورژوازی نے رجعتی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے“ بی ایل پی آئی نے برملا کہا، ”انہیں صرف مزدور طبقہ ہی ترقی پسند خطوط پر متحد کر سکتا ہے“۔

کشمیر کا یہ رِستا زخم اس تجزئیے کی تصدیق کرتا ہے اور تقسیم سے جنم لینے والی ان دونوں ریاستوں کے حد درجہ رُجعتی کردار کی بھی۔ سات دہائیوں سے، نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں کشمیریوں کے جمہوری حقوق کو کچلتے چلے آئے ہیں، جو 1947-48 میں انڈیا پاکستان کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کے بعد سے دنیا کے سب سے ذیادہ فوجی نگرانی والے بارڈر کی بدولت دو حصوں میں تقسیم ہیں۔

انڈیا 1989 سے جموں کشمیر میں جاری بغاوت کے خلاف ایک ایسی ”گندی جنگ“ لڑ رہا ہے جو شہریوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت پھانسیوں سے عبارت ہے، یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب انڈیا نے ریاستی انتخابات میں دھاندلی کی اور اسکے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کو دبادیا اور نظر انداز کر دیا۔ اس دوران، جموں کشمیر میں انڈیاکی حکمرانی کے خلاف پائے جانیوالے غصے اور ناراضی کو پاکستان نے اسلام پسند کشمیری علیحدگی پسندوں کی معاونت کرتے ہوئے جو فرقہ وارونہ حملوں اور نسلی قتل عام میں ملوث ہیں اپنے رجعتی مقاصد کی تکمیل کی کوشش کی ہے۔

آزادی کے بعد، پاکستان بڑی جلدی سویت یونین کے خلاف سرد جنگ میں امریکہ کے سامراجی نائب کا کردار ادا کرنے پر تیار ہو گیا۔ اپنی زندگی کا آدھا عرصہ تو یہ امریکی آشیرباد سے قائم آمریتوں کے زیر اقتدار رہا ہے۔ جہاں تک انڈین بورژوازی کا تعلق ہے، تو اس نے جنگ کے بعد کے معاشی ابھار سے فائدہ اٹھایااور سویت امداد سے ریاستی رہنمائی میں سرمایہ دارانہ ترقی کے منصوبے جسے ”کانگریسی سوشلزم“ کا نام دیا پر عمل کرنے کی کوشش کی، اگر چہ اس کے نتیجے میں عوام الناس غربت، جہالت اور گندگی میں ہی رہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ، اس نے خود کو عالمی سطح پر ”سامراج مخالف“ غیر جانبدار تحریک کے لیڈر کے طور پر پیش کیا۔

پاکستانی بورژو ا کی طرح انڈین بورژوا نے بھی برطانوی نو آبادیاتی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی سماجی مخالفت سے بچنے کیلئے فرقہ وارانہ تعصبات اور زات پات کے اختلافات کو اُبھارا۔ زبانی جمع خرچ کے اعتبارسے تو انڈین ریپبلک کا سیکولرز م کے ساتھ جو آئینی عہد نامہ ہے کانگرس پارٹی اسکی عملی صورت ہے، لیکن اس نے ہندوتوا کے رنگ میں رنگے ہوئے انڈین قوم پرستی کے جذبے کو بہت زیادہ اُبھارا ہے۔ اس نے فرقہ وارانہ مظالم کی نگرانی بھی کی اور ان سے چشم پوشی بھی، جیسا کہ 1984 میں کانگرس کی ایمأ پر سکھوں کا قتل عام اور 1992 میں بابری مسجد کا انہدام۔

انڈین بورژوازی کا سامراجیت اور رُجعت پرستی کو گلے لگانا؛۔

جب گلوبلائیزیشن اوریوایس ایس آر میں سٹالنسٹ بیوروکریسی کی سرمایہ داری کی بحالی نے انڈیا میں ریاست کی رہنمائی میں سرمایہ دارانہ ترقی کی حکمت عملی سے معاونت کا اپنا ہاتھ کھینچ لیا، تو انڈیا کے بورژوا نے بھی بڑی تیزی کے ساتھ اپنے سوشلسٹ، سامراج مخالف اور سیکولرزم کے دعوو ں کو بھی ایک طرف رکھ دیا۔ کانگریس پارٹی کی سر کردگی میں ایک انتقامی جذبے کے ساتھ یہ بورژوازی سامراج کے ساتھ ایک نئی پارٹنر شپ بنانے کی طرف لپکی، جس کی بنیا د انڈیا کو سستی اُجرتوں کی منڈی بنانا اورواشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ 1991 کے بعد کی انڈیا کی ”ترقی“ کے ثمرات پر ایک چھوٹی سی سرمایہ دار اشرافیہ کا قبضہ ہے جس نے سرکاری املاک کی نج کاری اور من مانی منافع خوری سے بے تحاشہ دولت سمیٹی ہے۔ جبکہ سماجی ناانصافی اور انسانوں کی حالت زار کے حوالے سے انڈیا دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔

اسکے باوجود بورژوازی بہت بے چین اور عدم اطمینان کا شکار ہے۔ عالمی اقتصادی شورش اور بڑھتے ہوئے سیاسی اور جغرافیائی کشمکش کے حالات میں، اسے خدشہ یہ ہے کہ انڈیا کو جو ”موقع“ ملا ہے کہ وہ چائینہ کے مقابلے کی ایک پیداواری قوت بنے اورعالمی طاقت کی حیثیت اختیار کرے وہ تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

کارپوریٹ انڈیا نے مودی کو اس لیئے گلے لگا یا ہے اوراسکی دائیں بازو کی بی جے پی کوملک کی سب سے اہم سیاسی قوت اس لیئے بنا دیا ہے تاکہ وہ نیو لیبرل معاشی تبدیلیوں کے عمل کو تیز کرے اور عالمی سطح پر اسکے مفادات کا بھر پور تحفظ کرے۔

مودی کی حکومت پاکستان کے ساتھ ”کھیل کے اصول“ تبدیل کرنے پر بضد ہے، اس خیال کے تحت کہ اسے جنوبی اشیاء میں خود کو علاقائی طاقت کے طور پر منوانا ہے عالمی جیو پا لیٹکس میں ایک بڑے کھلاڑی کا کر دارادا کرنے کیلئے اور انڈین سرمایہ داری کو ترقی دینے کی خاطر تیل اور دیگر وسائل پر اپنا دعویٰ دائر کرنے کیلئے۔ پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کرکے وہ گھر کے اندر موجود سماجی تناؤ اور بڑھتی ہوئی طبقاتی جدوجہد سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

کانگریس پارٹی کی زیر قیادت اپنی پیشرو حکومتوں کے بنائے ہوئے انڈو امریکی ”گلوبل ا سٹریٹجک پارٹنر شپ“ کو آگے بڑھاتے ہوئے، مودی حکومت نے انڈیا کو چائینہ کے خلاف امریکی جارحیت میں فرنٹ لائن ریاست بنا دیا ہے، عالمی سربراہی کی امریکہ کی جنونی خواہش کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اور اسکو مادی امداد فراہم کرتے ہوئے۔

واشنگٹن کے بڑی تیزی سے اسلام آباد کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کو کم کرنے نے پاکستان کے خلاف عاقبت نا اندیشانہ مہم جوئی میں انڈیا کا حوصلہ بڑھایاہے۔

امریکہ انڈیا اتحاد کے خطرے نے چائینہ پاکستان کو اپنے دیر پا فوجی سٹیٹیجک تعلقات کو مضبوط کرنے پر اُکسایا ہے۔

جنگ اور فرقہ وارانہ ردعمل کے خلاف مزدور طبقے کو متحرک کرنا؛۔

انڈیا پاکستان اور سائینو انڈین کشیدگی کا امریکہ اور چائینہ کے درمیان محاذآرائی کے ساتھ گڈ مڈ ہو جا نا جنوبی ایشیاء اور دنیا بھر کے انسانو ں کیلئے شدید خطرات کا باعث ہے۔ اس سے ان تینوں کشیدگیوں کی شدت میں اضافہ ہو ا ہے اور کشمیرکے متنازعہ خطے کی جیوسٹریٹجک اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

کشمیر چائینہ کے خودمختار علاقوں تبت اور سنکیانگ سے متصل ہے اور چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری بھی کشمیر سے گزرتی ہے، بیجنگ اس راہداری کو بہت اہمیت دیتا ہے کیونکہ جنگ کی صورت میں اس راہداری کے ذریعے ہی وہ واشنگٹن کے اپنی بندرگاہوں کے محاصرے کو ناکام بنا سکتا ہے۔

پچھلی تین دہایوں میں صرف انڈیا کی بورژوازی نے دائیں بازو کی طرف دوڑ نہیں لگائی۔ اس دوران انڈیا اور سارے جنوبی ایشیاء میں مزدور طبقے کی تعداد اورا سکی سماجی طاقت میں بھی بے پناہ اضافہ ہواہے۔ اسکے ساتھ عالمی سطح پر بھی، مزدور طبقے کی سماجی طاقت اور تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،اور عالمی سطح پر مزدور طبقے میں عسکریت پسندی اور سرمایہ داری کی اُجرتوں میں کٹوتیوں اور سماجی اخراجات میں کمی کے خلاف بڑھتی ہوئی اور شعورِ زات سے مالامال بیداری و بغاوت میں اضافہ ہواہے۔

یہ وہ قوت ہے جو فرقہ وارانہ ردِعمل اور جنگ کے خطرے کا تریاق ہے۔ نئی دہلی اور اسلام آباد کی رُجعتی سرمایہ دار اشرافیہ کے مقابلے میں انڈیا، پاکستان اور سارے برصغیر کے مزدوروں کو اپنی جدوجہد میں اضافہ کرنا چاہیے۔ لیون ٹراٹسکی کے پیش کردہ مستقبل انقلاب کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے انہیں سوشلسٹ یونائیٹڈ اسٹیٹس آف ساؤتھ ایشیاء کے قیام کیلئے باہم ملکراور ساری دنیا کے مزدوروں کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے جدوجہد کرنی چاہیے۔

سارے مظلوم محنت کشوں کو ساتھ ملاتے ہوئے ایک مزدور حکومت کے قیام کے ذریعے ہی سامراج سے حقیقی آزادی حاصل کی جاسکتی ہے، جنوبی ایشیاء کے کروڑوں لوگوں کو فرقہ پرستی اور زات پات کا خاتمہ کرتے ہوئے حقیقی مساوات کی بنیاد پر اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور انکے مناسب آمدنی والے روزگار اور بنیادی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

اس مقصد کے حصول کیلئے سٹالنزم بشمولِ اسکی ماؤوسٹ صورت کے خلاف ایک سیاسی لڑائی لڑ نا ہوگی، جس نے کئی دہائیوں سے مزدور طبقے کو قوم پرستی اوربورژوازی کے کسی ناکسی قسم کے مبینہ ترقی پسند دھڑے سے باندھ رکھا ہے۔ یہ ساری جماعتیں کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی آئی) کی سیاسی میراث کا دفاع کرتی ہیں، جس نے مزدور طبقے کو کانگریس اور مسلم لیگ کے تابع کر دیا تھا۔

کئی دہائیوں سے، سی پی آئی اور اسکی بڑی ذیلی جماعت، کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے بورژوازی مقتدرہ کے ایک لازمی جزو کی حیثیت سے خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہو ں نے 1991 سے 2008 تک دائیں بازو کی کئی حکومتوں کی مسلسل معاونت کی، جن میں اکثر کانگریس کے زیرقیادت تھیں، اور جنہوں نے نیو لیبرل معاشی ا صلاحات ااور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کی۔ یہ جماعتیں انڈیا کی جنگی تیاریوں کی حمایت کرتی ہیں، جسکا اب دنیا میں چوتھا بڑا فوجی بجٹ ہے اور انہوں نے ستمبر 2016 میں اوراب پچھلی فروری میں مودی کے پاکستان پر حملوں کی بھی حمایت کی۔

مئی میں مودی کے دوبارہ انتخاب کے جواب میں انہوں نے مزدور طبقے کو کانگریس اور دیگر بورژوا جماعتوں اور انڈیا کی بورژوا ریاست کے گلے سڑے ”جمہوری“ اداروں کا ایندھن بنانے کیلئے اپنی کوششوں کو ڈبل کر دیا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز سے ہر بڑی سیاسی جدوجہد کا سبق یہ ہے کہ جنگ اور رجعت پرستی کا مقابلہ ایک سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کیلئے مزدور طبقے کے آزاد وخود مختار تحریک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ہم انڈیا اور پاکستان میں ڈبلیو ایس ڈبلیوایس کے تمام قارئین سے یہ پُر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ملک میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کی شاخیں قائم کرکے سوشلزم کی لڑائی لڑیں۔

کیتھ جونز